اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سابق امریکی مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو ایک ایسے ’’اسٹریٹجک تعطل‘‘ میں پہنچا دیا ہے جس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ موجود نہیں۔
سلیوان کے مطابق جنگ شروع نہ کرنے کا بہترین راستہ اب امریکا کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور وائٹ ہاؤس کو اب دو مشکل اور نقصان دہ راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پہلا راستہ جنگ جاری رکھنا ہے، جس کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے اور کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ دوسرا راستہ ایسا معاہدہ قبول کرنا ہے جسے وہ ’’انتہائی خراب‘‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ ایران ہر ہفتے اپنے مطالبات میں اضافہ کر رہا ہے اور بحران سے نکلنے کی امریکی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
سابق امریکی مشیر قومی سلامتی نے واضح کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادہ کرنے کے لیے واشنگٹن کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس میں ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا، وسیع پیمانے پر پابندیاں کم کرنا اور ممکنہ طور پر ایران کی تعمیر نو کے لیے ایک بڑا فنڈ قائم کرنا شامل ہے۔
سلیوان نے پیش گوئی کی کہ آخرکار ٹرمپ کے پاس یہ مشکل فیصلہ قبول کرنے اور ایران کی شرائط تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
آپ کا تبصرہ